24 اگست 2026 - 15:19
امریکا نے ایران کے خلاف نئی معاشی جنگ کا اعلان کردیا، تہران کی خلیج فارس سے تیل برآمد روکنے کی دھمکی

امریکا نے ایران کے تجارتی شراکت داروں کے خلاف نئی معاشی پابندیوں کی تیاری شروع کردی ہے، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ معاشی جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمز سمیت خلیج فارس سے تیل کی برآمد مکمل طور پر روک دی جائے گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف نئی معاشی کارروائیوں کا اعلان کریں گے۔

بیسنٹ نے روزنامہ فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اسے ’’معیشت کے لیے فیصلہ کن دن‘‘ قرار دیتے ہوئے دھمکی دی کہ ایران کے ساتھ تجارتی اور مالی روابط جاری رکھنے والے ممالک کو بھی امریکی پالیسی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

انہوں نے چین پر بھی زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ میں واشنگٹن کا ساتھ دے۔ بیسنٹ نے خلیج فارس کے تیل پر چین کے انحصار کا حوالہ دیتے ہوئے بیجنگ سے امریکی اقدامات کی حمایت کا مطالبہ کیا۔

تاہم امریکا میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے واضح کیا کہ پابندیاں اور دباؤ مسائل کے حل میں مددگار نہیں، اس لیے سفارتی ذرائع سے مسائل حل کیے جانے چاہئیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی معاشی دباؤ کا جواب دینے کے لیے تیار رہنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے خبردار کیا کہ اگر معاشی جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمز یا خلیج فارس کے کسی بھی مقام سے تیل کا ایک قطرہ بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے عوام کے خلاف امریکی معاشی جنگ میں کسی بھی ملک کی شرکت یا اس کی حمایت کو ایران کے خلاف جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی بیسنٹ کے بیان کو امریکا کے دعووں کی ناکامی کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے امریکی دعووں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ایران کی فوجی صلاحیت اور جوہری پروگرام واقعی کمزور ہو چکے ہیں تو امریکا کو ایران کے خلاف ’’تاریخ کی سب سے بڑی مالی جنگ‘‘ شروع کرنے اور اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha